پاکستان میں 2026-27 کے ربیع سیزن کے لیے گندم کی کاشت ایک اہم منصوبہ بندی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ گائیڈ پاکستان میں گندم کی بوائی کے وقت، تجویز کردہ اقسام، بیج کی شرح، زمین کی تیاری، کھاد کا انتظام، آبپاشی، جڑی بوٹیوں کے کنٹرول اور فصل کی دیکھ بھال کا احاطہ کرتی ہے۔ کاشتکاروں کو گندم کی پیداوار اور منافع بڑھانے کے لیے تصدیق شدہ بیج، بروقت بوائی اور پانی کے موثر استعمال کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان میں گندم کی کاشت 2026–27
گندم پاکستان کی سب سے اہم غذائی فصلوں میں شمار ہوتی ہے۔
ربیع سیزن 2026–27 کے لیے کسانوں کو ابھی سے زمین کی تیاری، معیاری بیج، کھاد، پانی اور بوائی کے وقت کی منصوبہ بندی شروع کر دینی چاہیے۔
گندم میں بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لیے صرف اچھی قسم کا انتخاب کافی نہیں ہوتا۔
بروقت بوائی، تصدیق شدہ بیج، مناسب شرح بیج، متوازن کھاد، جڑی بوٹیوں کا بروقت کنٹرول اور اہم مراحل پر مناسب آبپاشی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
پنجاب محکمہ زراعت بھی گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے تصدیق شدہ بیج، بروقت بوائی، قطاروں میں کاشت، متوازن کھادوں، اہم مراحل پر آبپاشی اور فصل کٹائی کے بہتر طریقوں پر زور دیتا ہے۔
ربیع سیزن 2026–27 کی تازہ صورتحال
7 اکتوبر 2026 کو فیڈرل کمیٹی برائے زراعت نے ربیع سیزن 2026–27 کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ربیع فصلوں کے لیے تصدیق شدہ بیج کی دستیابی مجموعی طور پر تسلی بخش رہنے کی توقع ہے۔
ساتھ ہی پنجاب اور سندھ کے لیے آبپاشی کے پانی میں تقریباً:
22%
کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ مہینوں کی کم بارشوں کے باعث زمین میں نمی کا دباؤ موجود ہے، تاہم اکتوبر اور نومبر میں نسبتاً بہتر بارشوں کی توقع صورتحال میں کچھ بہتری لا سکتی ہے۔
گندم کی بروقت کاشت کیوں ضروری ہے؟
گندم کی پیداوار پر بوائی کے وقت کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔
بہت جلد یا بہت دیر سے بوائی کرنے سے فصل کی نشوونما، شگوفہ سازی، دانہ بھرنے اور مجموعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
پنجاب کی کئی موجودہ تجویز کردہ اقسام کے لیے بہترین بوائی کا وقت نومبر کے پہلے اور دوسرے عشرے میں آتا ہے۔
بارانی علاقوں میں بعض اقسام کی بوائی اکتوبر کے آخری حصے سے شروع ہو جاتی ہے۔
پنجاب میں گندم کی بوائی کا وقت
آبپاش علاقوں میں زیادہ تر نئی اہم اقسام کے لیے نومبر بنیادی مہینہ ہے۔
مثال کے طور پر:
عروج 2022
تجویز کردہ بوائی کا وقت
1 نومبر سے 20 نومبر
سبحانی 2021
تجویز کردہ بوائی کا وقت
5 نومبر سے 20 نومبر
ایم ایچ 2021
تجویز کردہ بوائی کا وقت
1 نومبر سے 20 نومبر
پنجاب ویٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق یہ اقسام آبپاش علاقوں کے لیے اہم تجویز کردہ انتخاب میں شامل ہیں۔
بارانی علاقوں میں گندم کی بوائی کا وقت
بارانی علاقوں کے لیے پانی اور مٹی میں نمی کی دستیابی زیادہ اہم ہوتی ہے۔
پنجاب زراعت کے مطابق بعض اہم بارانی اقسام کی تجویز کردہ بوائی کے اوقات یہ ہیں:
شیراز-23
20 اکتوبر سے 10 نومبر
ایم اے-2021
20 اکتوبر سے 20 نومبر
بارانی-17
20 اکتوبر سے 20 نومبر
فتح جنگ-16
20 اکتوبر سے 20 نومبر
شیراز-23 خاص طور پر بارانی علاقوں کے لیے زیادہ پیداوار دینے والی اور زنگ سے محفوظ قسم کے طور پر درج ہے۔
2026–27 کے لیے اہم گندم کی اقسام
پنجاب ویٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی موجودہ تجویز کردہ اقسام میں درج ذیل نام شامل ہیں:
اناج-17
اکبر-19
دلکش-20
سبحانی-21
ایم ایچ-21
عروج-2022
ویٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق اکبر-19 پاکستان میں بڑے پیمانے پر کاشت ہونے والی اہم اقسام میں شامل ہے اور اسے زیادہ پیداوار، زنگ کے خلاف مدافعت، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور زیادہ زنک کے مواد جیسی خصوصیات حاصل ہیں۔
عروج 2022
عروج 2022 نئی اہم گندم کی اقسام میں شامل ہے۔
تجویز کردہ بوائی کا وقت
1 نومبر سے 20 نومبر
تجویز کردہ علاقہ
پنجاب کے آبپاش اور بارانی دونوں علاقے
پیداواری صلاحیت
تقریباً 76 من فی ایکڑ
یہ اعداد و شمار تحقیقی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
کسان کی اصل پیداوار زمین، پانی، موسم، کھاد، بوائی کے وقت اور انتظام کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
سبحانی 2021
تجویز کردہ بوائی کا وقت
5 نومبر سے 20 نومبر
تجویز کردہ علاقہ
پنجاب کے آبپاش علاقے
پیداواری صلاحیت
تقریباً 70 من فی ایکڑ
اس قسم کے دانے کا معیار اور پروٹین کی خصوصیات بھی ویٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی سرکاری فہرست میں درج ہیں۔
ایم ایچ 2021
تجویز کردہ بوائی کا وقت
1 نومبر سے 20 نومبر
تجویز کردہ علاقہ
پنجاب کے آبپاش علاقے
پیداواری صلاحیت
تقریباً 70 من فی ایکڑ
قسم کا انتخاب ہمیشہ اپنے علاقے، زمین اور مقامی زرعی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں۔
بارانی علاقوں کے لیے شیراز-23
شیراز-23 بارانی علاقوں کے لیے نسبتاً نئی اہم قسم ہے۔
تجویز کردہ بوائی کا وقت
20 اکتوبر سے 10 نومبر
پیداواری صلاحیت
تقریباً 65 من فی ایکڑ
اہم خصوصیات
زیادہ پیداوار
زنگ کے خلاف مدافعت
پتوں اور تنے پر موم کی مضبوط تہہ
یہ خصوصیات نمی کے دباؤ اور بیماریوں کے انتظام کے حوالے سے اہم ہو سکتی ہیں۔
تصدیق شدہ گندم کا بیج کیوں ضروری ہے؟
گندم میں اچھے بیج کا مطلب صرف زیادہ اگاؤ نہیں ہوتا۔
معیاری تصدیق شدہ بیج سے درج ذیل فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں:
بہتر اگاؤ
فصل کا یکساں کھڑا ہونا
اقسام کی خالصیت
کم بیماری کا خطرہ
مناسب پودوں کی تعداد
بہتر پیداواری صلاحیت
پنجاب محکمہ زراعت مستقبل کی گندم کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے تصدیق شدہ بیج کے استعمال کو اہم حکمت عملی قرار دیتا ہے۔
گندم کا بیج خریدتے وقت کیا دیکھیں؟
بیج خریدتے وقت درج ذیل چیزیں ضرور چیک کریں:
منظور شدہ قسم
تصدیق شدہ بیج کا ٹیگ
پیکنگ کی حالت
اگاؤ کا معیار
قسم کا نام
تجویز کردہ علاقہ
بوائی کا وقت
بیج فراہم کرنے والا
غیر تصدیق شدہ یا نامعلوم ذریعہ کا بیج استعمال کرنے سے اگاؤ، بیماری اور اقسام کی خالصیت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
گندم کے بیج کی شرح فی ایکڑ
گندم کی بیج کی شرح ایک مقررہ نمبر نہیں ہے۔
یہ بوائی کے وقت، قسم، اگاؤ کے فیصد، زمین کی حالت اور بوائی کے طریقہ کار کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔
عمومی طور پر بروقت بوائی میں کم بیج کی شرح کافی ہو سکتی ہے، جبکہ دیر سے بوائی میں پودوں کی تعداد برقرار رکھنے کے لیے بیج کی شرح بڑھائی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر پنجاب زراعت کی دیر سے بوائی کی سفارش میں 1 دسمبر سے 10 دسمبر کے دوران:
50 سے 55 کلو گرام بیج فی ایکڑ
استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اہم ہدایت
بروقت بوائی کے لیے اپنی منتخب کردہ قسم کی موجودہ لیبل سفارش یا مقامی زرعی توسیع کی سفارش پر عمل کریں۔
ایک ہی بیج کی شرح کو ہر قسم اور ہر تاریخِ بوائی پر لاگو نہ کریں۔
زمین کی تیاری
بہتر گندم کی فصل کے لیے زمین کو مناسب حالت میں تیار کرنا ضروری ہے۔
زمین نرم اور ہموار ہونی چاہیے۔
پچھلی فصل کی باقیات کو مناسب طریقے سے سنبھالیں۔
کھیت میں غیر ضروری بڑے ڈھیلے نہ رہنے دیں۔
لیزر لینڈ لیولنگ دستیاب ہو تو پانی کے مؤثر استعمال میں مدد دے سکتی ہے۔
زمین میں مناسب نمی موجود ہونی چاہیے۔
پانی کھڑا ہونے کی صورتحال سے گریز کریں۔
چاول کے بعد گندم کی کاشت
چاول-گندم کے فصلوں کے نظام میں گندم کی بوائی میں تاخیر ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔
پنجاب زراعت کے زرعی تحقیقی انسٹیٹیوٹ کے مطابق چاول کے بعد گندم کی بغیر ہل چلائے (زیرو ٹل) بوائی بعض حالات میں:
10% سے 12%
تک پیداوار میں بہتری اور:
15% سے 20%
تک پیداواری لاگت میں کمی سے وابستہ رہی ہے۔
فصل کی باقیات جلانے سے بچنے کی وجہ سے اس طریقہ کار کے ماحولیاتی فوائد بھی ہیں۔
گندم کی بوائی کا طریقہ
جہاں ممکن ہو گندم کی بوائی:
سیڈ ڈرل
سپر سیڈر
زیرو ٹل ڈرل
بیڈ پلانٹر
کے ذریعے کریں۔
قطاروں میں کاشت سے بیج کا پھیلاؤ نسبتاً یکساں رہتا ہے اور فصل کا کھڑا ہونا بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکتا ہے۔
پنجاب زراعت بروقت اور قطاروں میں کاشت کو گندم کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی اہم مشق قرار دیتا ہے۔
بیڈ پر کاشت کے فوائد
پانی کی کمی والے علاقوں میں بیڈ پر کاشت اہم ہو سکتی ہے۔
پنجاب زراعت کی تحقیق کے مطابق گندم کو بیڈ پر کاشت کرنے سے بعض حالات میں آبپاشی کے پانی کی نمایاں بچت حاصل کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح کھال پر مبنی کاشت کے طریقے بھی پانی کی بچت میں مدد دے سکتے ہیں۔
گندم میں کھاد کا انتظام
گندم کی بہتر پیداوار کے لیے صرف یوریا پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
فصل کو متوازن غذائیت درکار ہوتی ہے۔
اہم غذائی اجزاء میں شامل ہیں:
کھاد کی صحیح مقدار زمین کی زرخیزی اور مٹی کے ٹیسٹ کے مطابق طے کرنا بہتر ہے۔
ڈی اے پی (DAP) کا کردار
ڈی اے پی عام طور پر فاسفورس اور نائٹروجن فراہم کرتی ہے۔
فاسفورس گندم کی فصل کی ابتدائی جڑ کی نشوونما اور ابتدائی بڑھوتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
فاسفورس کی ضرورت عموماً زمین کی تیاری اور ابتدائی مرحلے میں زیادہ اہم ہوتی ہے۔
یوریا کا کردار
یوریا نائٹروجن فراہم کرتی ہے۔
نائٹروجن گندم کی فصل میں نباتاتی نشوونما، شگوفہ سازی اور دانہ بننے کے عمل کے لیے اہم ہے۔
تمام نائٹروجن ایک ہی وقت میں دینا ہر حالت میں بہترین حکمت عملی نہیں ہوتی۔
زمین، آبپاشی اور فصل کی حالت کے مطابق قسطوں میں کھاد دینا بہتر انتظام فراہم کر سکتا ہے۔
پوٹاش کا کردار
پوٹاشیم فصل کی مضبوطی، دباؤ کو برداشت کرنے اور دانہ بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پوٹاشیم کی مقدار مٹی کے ٹیسٹ کے مطابق رکھنا بہتر ہے۔
زنک اور مائیکرو نیوٹرینٹس
زنک کی کمی والے علاقوں میں گندم کی فصل متاثر ہو سکتی ہے۔
مائیکرو نیوٹرینٹس صرف ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔
غیر ضروری اور زیادہ مقدار میں مائیکرو نیوٹرینٹس کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
مٹی کا ٹیسٹ کیوں ضروری ہے؟
دو مختلف کھیتوں کی کھاد کی ضرورت ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔
مٹی کے ٹیسٹ سے درج ذیل معلومات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے:
زمین کی زرخیزی
فاسفورس کی حیثیت
پوٹاشیم کی حیثیت
پی ایچ (pH)
شوریت
مائیکرو نیوٹرینٹ کی ضرورت
اسی لیے کھاد کے تھیلوں کی ایک مقررہ تعداد پورے پاکستان کے لیے تجویز کرنا درست نہیں۔
کھاد کا متوازن منصوبہ مٹی کے ٹیسٹ کی بنیاد پر زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
ربیع 2026–27 میں کھاد کی دستیابی
7 اکتوبر 2026 کی فیڈرل کمیٹی برائے زراعت کے اجلاس میں ربیع سیزن کے کھاد کے ذخائر کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یوریا کی دستیابی
تقریباً 3,950 ہزار ٹن
یوریا کی متوقع کھپت
تقریباً 3,596 ہزار ٹن
ڈی اے پی (DAP) کی دستیابی
تقریباً 766 ہزار ٹن
ڈی اے پی (DAP) کی متوقع ضرورت
تقریباً 838 ہزار ٹن
سرکاری اجلاس کے مطابق ممکنہ ڈی اے پی (DAP) شارٹ فال کو نجی شعبے کی درآمدات کے ذریعے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔
گندم میں آبپاشی
گندم میں ہر آبپاشی ایک جیسی اہمیت نہیں رکھتی۔
اہم نشوونما کے مراحل پر نمی کی کمی پیداوار کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔
اہم مراحل میں شامل ہو سکتے ہیں:
کراؤن روٹ انیشیشن (جڑ بننے کا مرحلہ)
ٹلرنگ (شاخیں نکلنے کا مرحلہ)
بوٹنگ (گوبھ کی حالت)
ہیڈنگ (سٹے نکلنے کا مرحلہ)
گرین فلنگ (دانہ بھرائی کا مرحلہ)
پانی کا شیڈول زمین، موسم اور پانی کی دستیابی کے مطابق رکھیں۔
ربیع 2026–27 میں پانی کی صورتحال
2026–27 کے سیزن میں پانی کا انتظام خاص طور پر اہم ہوگا۔
وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے مطابق پنجاب اور سندھ کے لیے تقریباً:
22 فیصد پانی کی کمی
کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی لیے فلڈ ایریگیشن میں غیر ضروری پانی کے ضیاع سے بچنا اہم ہوگا۔
جڑی بوٹیوں کا کنٹرول
گندم کی فصل میں جڑی بوٹیاں پانی، غذائی اجزاء اور روشنی کے لیے فصل کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔
ابتدائی مراحل میں جڑی بوٹیوں کے دباؤ کو نظر انداز کرنا پیداوار میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
کھیت کے معائنے کے ذریعے جڑی بوٹیوں کی اقسام کی شناخت کریں۔
تجویز کردہ جڑی بوٹی مار ادویات (ہر بائی سائیڈ) صرف متعلقہ جڑی بوٹی اور فصل کے مرحلے کے مطابق استعمال کریں۔
زیادہ مقدار یا غلط دوا کا استعمال فصل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
گندم کی اہم بیماریاں
پاکستان میں گندم کی فصل میں مختلف بیماریاں پیداوار کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اہم بیماریوں میں شامل ہیں:
پیلی کنگی (Yellow Rust)
بھوری کنگی (Brown Rust)
کالی کنگی (Black Rust)
لوز سمٹ (کنگیاڑ)
کرنال بنٹ
بیماریوں کے خلاف مدافعت رکھنے والی منظور شدہ اقسام کا انتخاب رسک مینجمنٹ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اپنے موجودہ بریڈنگ اور ورائٹی پروگرام میں کنگی (رسٹ) کے خلاف مدافعت کو اہم خصوصیت کے طور پر شامل کرتا ہے۔
گندم میں کیڑوں کی نگرانی
گندم میں عام طور پر بعض دوسری فصلوں کے مقابلے میں کیڑوں کا دباؤ کم ہو سکتا ہے، لیکن مختلف علاقوں میں چیپا (aphids)، دیمک اور دیگر کیڑوں کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
کھیتوں کی مسلسل نگرانی (Scouting) جاری رکھیں۔
غیر ضروری کیڑے مار ادویات کا سپرے نہ کریں۔
کیڑے کی صحیح شناخت کے بعد ہی رجسٹرڈ کیڑے مار دوا استعمال کریں۔
دیر سے کاشت کے نقصانات کیا ہو سکتے ہیں؟
دیر سے کاشت کرنے سے گندم کی فصل کا نشوونما کا دورانیہ کم ہو سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں:
کم ٹلرنگ
کم پودوں کی نشوونما
ہیٹ سٹریس (گرمی کا دباؤ)
دانہ بھرنے کا مختصر دورانیہ
کم پیداوار
جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے گندم کی کاشت کو غیر ضروری طور پر دسمبر تک تاخیر سے بچنا چاہیے۔
گندم کی پیداوار بڑھانے کے 10 اہم اصول
اپنے علاقے کے لیے منظور شدہ قسم (ورائٹی) منتخب کریں۔
تصدیق شدہ بیج استعمال کریں۔
تجویز کردہ وقت پر کاشت کریں۔
سیڈ ڈرل یا مناسب مشینری استعمال کریں۔
بیج کی مقدار کاشت کے وقت کے مطابق رکھیں۔
مٹی کے ٹیسٹ کی بنیاد پر متوازن کھاد کا استعمال کریں۔
نشوونما کے اہم مراحل پر پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔
ابتدائی جڑی بوٹیوں کے کنٹرول پر توجہ دیں۔
کنگی اور دیگر بیماریوں کی مسلسل نگرانی کریں۔
فصل کی بروقت کٹائی کریں۔
2026–27 میں کسانوں کو ابھی کیا کرنا چاہیے؟
اکتوبر کے دوران گندم کے کاشتکاروں کو کاشت سے پہلے منصوبہ بندی مکمل کر لینی چاہیے۔
اپنے علاقے کے لیے منظور شدہ گندم کی قسم منتخب کریں۔
تصدیق شدہ بیج پہلے سے حاصل کریں۔
ڈی اے پی، یوریا اور دیگر درکار کھادوں کی منصوبہ بندی کریں۔
اگر سیڈ ڈرل یا سپر سیڈر دستیاب ہو تو پہلے سے انتظام کریں۔
مٹی کی نمی اور پانی کی دستیابی کو چیک کریں۔
بارانی علاقوں میں اکتوبر کے آخری حصے سے شروع ہونے والی کاشت کی ونڈوز پر نظر رکھیں۔
سیراب پنجاب میں نومبر کی تجویز کردہ کاشت کی ونڈو کے لیے کھیت کی تیاری بروقت مکمل کریں۔
کسان مال کے ساتھ گندم کے سیزن کی تیاری کریں
گندم کے ربیع سیزن کے لیے معیاری زرعی مداخل اور فارم مشینری کی پہلے سے منصوبہ بندی کرنا کسان کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
کسان مال (Kissan Mall) پر درج ذیل کیٹیگریز کی دستیابی چیک کی جا سکتی ہے:
ویب سائٹ
اکثر پوچھے گئے سوالات
پاکستان میں گندم کی کاشت کا بہترین وقت کیا ہے؟
یہ قسم اور علاقے کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
پنجاب کے سیراب علاقوں میں کئی اہم نئی اقسام کے لیے یکم نومبر سے 20 نومبر کے درمیان کاشت کی سفارش کی جاتی ہے۔
بارانی علاقوں میں بعض اقسام کی کاشت 20 اکتوبر سے شروع ہو سکتی ہے۔
عروج 2022 کب کاشت کی جاتی ہے؟
کاشت کا تجویز کردہ وقت
یکم نومبر سے 20 نومبر
عروج 2022 پنجاب کے سیراب اور بارانی دونوں علاقوں کے لیے درج ہے۔
شیراز-23 کب کاشت کریں؟
کاشت کا تجویز کردہ وقت
20 اکتوبر سے 10 نومبر
یہ خاص طور پر پنجاب کے بارانی علاقوں کے لیے تجویز کردہ قسم ہے۔
2026 میں گندم کی بہترین اقسام کون سی ہیں؟
پنجاب ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی موجودہ تجویز کردہ اقسام میں:
اناج-17
اکبر-19
دلکش-20
سبحانی-21
ایم ایچ-21
عروج-2022
شامل ہیں۔
گندم کے بیج کی فی ایکڑ مقدار کتنی ہے؟
بیج کی مقدار کاشت کی تاریخ، قسم، اگاؤ اور کاشت کے طریقہ کار کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔
دیر سے کاشت میں محکمہ زراعت پنجاب نے بعض حالات میں 50 سے 55 کلوگرام فی ایکڑ بیج کی سفارش کی ہے۔
بروقت کاشت کے لیے منتخب کردہ قسم کی موجودہ سفارش پر عمل کریں۔
گندم کے لیے کون سی کھاد ضروری ہے؟
نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم بنیادی غذائی اجزاء ہیں۔
ضرورت کے مطابق سلفر، زنک اور دیگر مائیکرو نیوٹرینٹس بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
صحیح مقدار کا تعین مٹی کے ٹیسٹ کے مطابق کرنا بہتر ہے۔
کیا ڈی اے پی (DAP) گندم کے لیے ضروری ہے؟
فاسفورس گندم کی جڑ کی نشوونما اور ابتدائی بڑھوتری کے لیے اہم ہے۔
ڈی اے پی فاسفورس کا عام ذریعہ ہے، لیکن کھاد کا صحیح انتخاب مٹی کی زرخیزی اور دستیاب کھادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
گندم کو پہلا پانی کب دینا چاہیے؟
پہلی آبپاشی کا وقت مٹی کی نمی، کاشت کے طریقہ کار اور مقامی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔
کراؤن روٹ انیشیشن (جڑ بننے کا مرحلہ) پر نمی کی دستیابی خاص طور پر اہم ہوتی ہے۔
مقامی زرعی توسیعی عملے کی سفارشات پر عمل کریں۔
کیا تصدیق شدہ گندم کا بیج استعمال کرنا ضروری ہے؟
تصدیق شدہ بیج بہتر اگاؤ، اقسام کی پاکیزگی اور فصل کے قیام میں مدد دیتا ہے۔
محکمہ زراعت پنجاب گندم کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے تصدیق شدہ بیج اپنانے پر خاص زور دیتا ہے۔

